03:26 , 3 مئی 2026
Watch Live

گرینڈ حیات اسلام آباد تنازع، لیز خلاف ورزی اور واجبات پر شدت

کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے دو ہزار پانچ میں اسلام آباد میں پانچ ستارہ ہوٹل کے لیے تیرہ اعشاریہ پانچ ایکڑ زمین الاٹ کی اور یہ لیز بی این پی کو چار اعشاریہ آٹھ ارب روپے میں دی گئی۔ ابتدائی پندرہ فیصد ادائیگی کے بعد اتھارٹی نے تعمیر کی اجازت دے دی، تاہم کمپنی نے باقی رقم ادا نہ کی اور بار بار ادائیگی مؤخر کرنے کی درخواستیں دیتی رہی۔

جیسے جیسے معاملہ آگے بڑھا، کیس پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت میں پہنچا جس نے دو ہزار انیس میں بی این پی کو لیز بحال کرنے کے لیے سترہ اعشاریہ پانچ ارب روپے ادا کرنے کا حکم دیا۔ اس کے باوجود کمپنی نے صرف دو اعشاریہ نو ارب روپے جمع کروائے جبکہ تقریباً چودہ اعشاریہ پانچ ارب روپے واجب الادا رہے، جس پر دو ہزار تئیس میں لیز منسوخ کر دی گئی۔

مزید یہ کہ کمپنی نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہوٹل کی بجائے دو سو تریسٹھ رہائشی فلیٹس تعمیر کر دیے۔ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے عمارت پر واضح نوٹس آویزاں کیے کہ خریدار کسی بھی قانونی نتیجے کے خود ذمہ دار ہوں گے، مگر اس کے باوجود فلیٹس کی خرید و فروخت جاری رہی۔

دو سو تریسٹھ فلیٹس میں سے صرف انہتر میں لوگ رہائش پذیر ہیں جبکہ باقی ایک سو چورانوے زیادہ تر سرمایہ کاروں کے پاس ہیں جو انہیں خرید و فروخت کر رہے ہیں۔ زیرِ استعمال فلیٹس میں بھی کم تعداد مستقل رہائش کے لیے ہے جبکہ اکثریت مختصر مدت کے کرائے پر دی جا رہی ہے، جو تجارتی استعمال کو ظاہر کرتا ہے۔

اسلام آباد کی عدالتِ عالیہ کے احکامات پر کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور اسلام آباد پولیس نے موقع پر کارروائی کی اور مکینوں کو باقاعدہ نوٹس جاری کیے۔ متعلقہ افراد کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سات دن کے اندر فلیٹس خالی کریں، جس سے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کا آغاز ہو گیا ہے۔

اگرچہ اتھارٹی پہلے ہی خریداروں کو خطرات سے آگاہ کر چکی تھی، تاہم حکومت نے نرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اصل قیمت کے مطابق معاوضہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد متاثرہ افراد کو ریلیف دینا اور ساتھ ہی قانونی عملداری کو یقینی بنانا ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION